پروڈیگل بیٹے کی تمثیل

______________________________________________________________

______________________________________________________________

گھر چھوڑ کر جا نے والا بیٹا

11 تب یسوع نے کہا ، “ایک آدمی کے دو لڑ کے تھے۔ 12 چھوٹے بیٹے نے اپنے باپ سے پو چھا کہ تیری جائیداد میں سے مجھے ملنے وا لا حصّہ دیدے تب باپ نے اپنی جائیداد دونوں لڑکوں میں بانٹ دی۔

13 چھوٹا بیٹا اپنے حصّہ میں ملنے والی تمام چیزوں کو جمع کیا اور دور کے ملک کو سفر پر چلا اور وہاں پر وہ بے جا اسراف کر کے بیوقوف بن گیا۔ 14 تب اس ملک میں قحط پڑا اور وہاں برسات نہ ہو ئی اس ملک کے کسی حصہ میں بھی اناج نہ رہا وہ بہت بھو کا تھا اور اسے پیسوں کی شدید ضرورت تھی۔ 15 اس وجہ سے وہ اس ملک کے ایک شہری کے پاس مزدوری کے کام پر لگ گیا وہ آدمی اس کو سؤ روں کے چرانے کے لئے اپنے کھیت کو بھیج دیا۔ 16 اس وقت وہ بہت بھوکا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ سؤ روں کے کھا نے کے پھلوں کو ہی کھا نے کی خواہش کی مگر اسے کو ئی نہ دیتا تھا۔

17 تب اسے اپنی کم عقلی کے کاموں کا احساس ہوا۔ اور اپنے آپ سے کہنے لگا کہ میرے باپ کے پاس کام کرنے والے نوکروں کو وافر مقدار میں اناج ملتا ہے جبکہ میں خود یہاں کھانا نہ ملنے پر بھوکا مر رہا ہوں۔ 18 میں یہاں سے اپنے باپ کے پاس چلا جاؤں گا اور اپنے باپ سے کہونگا کہ اے باپ میں خدا کے خلاف اور تیرے خلاف بڑے گناہ کا مرتکب ہوا ہوں۔ 19 میں تیرا بیٹا کہلوانے کا مستحق نہیں ہوں اور تو مجھے اپنے نوکروں میں ایک نوکر کی حیثیت سے شامل کر لے۔ 20 ایسے میں وہ نکل کر اپنے باپ کے پاس چلا گیا۔

چھوٹابیٹا واپس لوٹ آیا

“بیٹا ابھی بہت دور ہی تھا کہ باپ نے اسے دیکھا اس کے دل میں شفقت پیدا ہو ئی وہ قریب دوڑتے ہو ئے آیا اور اسے گلے لگایا اور پیار کیا۔ 21 بیٹے نے اپنے باپ سے کہا کہ اے باپ! میں نے خدا کے خلاف اور تمہارے خلاف غلطی کی ہے اور میں تیرا بیٹا کہلا نے کا مستحق نہیں ہوں۔

22 لیکن باپ نے اپنے ملازموں سے کہا کہ جلدی کرو!عمدہ قسم کے ملبوسات لا کر اسے پہناؤ۔ اور اسکی انگلی میں انگوٹھی پہناؤ اور اس کے پیرو ں میں جو تے پہناؤ۔ 23 فربہ بچھڑے کو لا کر ذبح کرو تا کہ ہم دعوت اور خوشیاں منا ئیں گے۔ 24 میرا بیٹا تو مر گیا تھا اور اب پھر دو بارہ زندہ ہوا ہے! یہ گم ہو گیا تھا اب دوبارہ مل گیا ہے اس وجہ سے اب وہ خوشیاں منا نے لگے۔”

بڑا بیٹا آیا

25 “بڑا بیٹا کھیت میں تھا جب وہ واپس لوٹ رہا تھا اور گھر کے قریب آیا تو گا نے بجانے اور ناچ کی آواز کو سنی۔ 26 اس وجہ سے وہ اپنے نوکروں میں سے ایک کو بلا یا اور پوچھا کہ یہ سب کیا ہے ؟ 27 اس نو کر نے کہا کہ تیرا بھا ئی لوٹ کر آیا ہے اور تیرا باپ فر بہ بچھڑے کو ذبح کرا یا ہے۔ تیرا بھا ئی خیر و عافیت سے واپس لوٹنے کی وجہ سے تیرا باپ بہت خوش ہوا ہے!

28 بڑا بیٹا غصہ میں آکر دعوت کی محفل میں نہیں گیا تب اس کا باپ باہر آکر اس کو سمجھا نے لگا۔ 29 بڑا بیٹا باپ سے کہنے لگا میں ایک غلام کی طرح کئی سا لوں سے تیری خدمت کرتا رہا اور میں ہمیشہ تیرے احکا مات کی فرمانبر داری کی لیکن تو نے میری خا طر کبھی ایک بکری بھی ذبح نہ کی۔ مجھے اور میرے دوستوں کے لئے تو نے کبھی ایک کھانے کی دعوت کا اہتمام نہ کیا۔ 30 لیکن تیرا چھو ٹا بیٹا تیرےسارے سرمایہ کو فا حشاؤں پر صرف کیا اور جب وہ گھر واپس لوٹا تو تو نے اس کے لئے ایک فربہ بچھڑے کو ذبح کرا یا۔

31 لیکن باپ نے اس سے کہا ، “بیٹا! تو ہمیشہ میرے ساتھ ر ہا ہے اسلئے میراجو کچھ بھی ہے وہ سب تیرا ہی ہے۔ 32 ہم کو بہت خوش ہو نا چاہئے اور مسرت سے سرشار ہو نا چاہئے اس لئے کہ تیرا بھا ئی انتقال ہو گیا تھا اور اب پھر دوبارہ زندہ ہو کر آیا ہے اور کہا کہ وہ کھو گیا تھا اب دستیاب ہوا ہے۔”

______________________________________________________________

تمثیل کا موضوع محبت، رحم اور معافی ہے اور پرتگالی پادریوں نے پینیٹل سروسز میں تمثیل کا استعمال کیا۔

نیم گرم عیسائی، متحرک ہو جاؤ، کیونکہ مسیح دوسرا آنا قریب ہے۔

______________________________________________________________

This entry was posted in اردو and tagged . Bookmark the permalink.